حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي يَزِيدَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سِبَاعِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ أُمِّ كُرْزٍ، قَالَتْ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ (ﷺ) يَقُولُ: أَقِرُّوا الطَّيْرَ عَلَى مَكِنَاتِهَا، قَالَتْ: وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: عَنِ الْغُلَامِ شَاتَانِ وَعَنِ الْجَارِيَةِ شَاةٌ لَا يَضُرُّكُمْ أَذُكْرَانًا كُنَّ أَمْ إِنَاثًا.
ام کرز (رض) کہتی ہیں میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا : پرندوں کو ان کے گھونسلوں میں بیٹھے رہنے دو (یعنی ان کو گھونسلوں سے اڑا کر تکلیف نہ دو ) ، میں نے آپ ﷺ کو یہ بھی فرماتے ہوئے سنا ہے : لڑکے کی طرف سے (عقیقہ میں) دو بکریاں ہیں، اور لڑکی کی طرف سے ایک بکری ہے، اور تمہیں اس میں کچھ نقصان نہیں کہ وہ نر ہوں یا مادہ ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/العقیقة ٣ (٤٢٢٣، ٤٢٢٢) ، سنن ابن ماجہ/الذبائح ١ (٣١٦٢) ، (تحفة الأشراف : ١٨٣٤٧) ، وقد أخرجہ : دی/ الأضاحی ٩ (٢٠١١) (ضعیف) (یہ حدیث ضعیف ہے ، اس کی سند میں اضطراب ہے، عقیقہ سے متعلق حدیث کے لئے اوپر اور نیچے کی احادیث دیکھئے، ملاحظہ ہو : صحیح ابوداود ٨/١٨٣ )