حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنِ بْنِ وَاقِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ يَزِيدَ النَّحْوِيِّ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْابْنِ عَبَّاسٍ، إِنْ تَرَكَ خَيْرًا الْوَصِيَّةُ لِلْوَالِدَيْنِ وَالأَقْرَبِينَ سورة البقرة آية 180 فَكَانَتِ الْوَصِيَّةُ كَذَلِكَ حَتَّى نَسَخَتْهَا آيَةُ الْمِيرَاثِ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ آیت کریمہ : إن ترک خيرا الوصية للوالدين والأقربين اگر مال چھوڑ جاتا ہو تو اپنے ماں باپ اور قرابت داروں کے لیے اچھائی کے ساتھ وصیت کر جائے (سورۃ البقرہ : ١٨٠) ، وصیت اسی طرح تھی (جیسے اس آیت میں مذکور ہے) یہاں تک کہ میراث کی آیت نے اسے منسوخ کردیا۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٦٢٦٠) ، وقد أخرجہ : سنن الدارمی/الوصایا ٢٨ (٣٣٠٦) (حسن صحیح )