حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ يَعْقُوبَ الْجُوزَجَانِيُّ، حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ هَانِئٍ، حَدَّثَنَا حَرْبُ بْنُ شَدَّادٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ الْحَمِيدِ بْنِ سِنَانٍ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ حَدَّثَهُ وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَهُ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا الْكَبَائِرُ ؟ فَقَالَ: هُنَّ تِسْعٌ، فَذَكَرَ مَعْنَاهُ زَادَ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ الْمُسْلِمَيْنِ، وَاسْتِحْلَالُ الْبَيْتِ الْحَرَامِ قِبْلَتِكُمْ أَحْيَاءً وَأَمْوَاتًا.
عمیر بن قتادۃ لیثی (رض) (جنہیں شرف صحبت حاصل ہے) کہ ایک شخص نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھا : اللہ کے رسول ! کبیرہ گناہ کیا کیا ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ نو ہیں ١ ؎، پھر انہوں نے اسی مفہوم کی حدیث ذکر کی جو اوپر بیان ہوئی، اور اس میں : مسلمان ماں باپ کی نافرمانی، اور بیت اللہ جو کہ زندگی اور موت میں تمہارا قبلہ ہے کی حرمت کو حلال سمجھ لینے کا اضافہ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/المحاریة ٣ (٤٠١٧) (وعندہ : ” تسع “ )، (تحفة الأشراف : ١٠٨٩٥) (حسن ) وضاحت : ١ ؎ : یہاں حصر اور استقصاء مقصود نہیں ان کے علاوہ اور بھی متعدد کبیرہ گناہ ہیں جن سے اجتناب ضروری ہے۔