حَدَّثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْمُؤَذِّنُ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ يَعْنِي ابْنَ بِلَالٍ، عَنْ الْعَلاءِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِأُرَاهُ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: إِذَا مَاتَ الإِنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةِ أَشْيَاءَ مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ، أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ، أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُو لَهُ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جب انسان مرجاتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہوجاتا ہے سوائے تین چیزوں کے (جن کا فیض اسے برابر پہنچتا رہتا ہے) : ایک صدقہ جاریہ ١ ؎، دوسرا علم جس سے لوگوں کو فائدہ پہنچے ٢ ؎، تیسرا صالح اولاد جو اس کے لیے دعائیں کرتی رہے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ١٤٠٢٦) ، وقد أخرجہ : صحیح مسلم/الوصایا ٣ (١٦٣١) ، سنن الترمذی/الأحکام ٣٦ (١٣٧٦) ، سنن النسائی/الوصایا ٨ (٣٦٨١) ، مسند احمد (٢/٣١٦، ٣٥٠، ٣٧٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ایسی خیرات جس کا فائدہ ہمیشہ جاری رہے مثلا مسجد ، مدرسہ ، کنواں وغیرہ۔ ٢ ؎ : مثلاً دینی تعلیم دینا ، کتاب و سنت کے مطابق کتابیں و تفسیریں وغیرہ لکھ جانا۔