حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَمْروِ بْنِ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، حَدَّثَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ زِيَادٍ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: الْعِلْمُ ثَلَاثَةٌ وَمَا سِوَى ذَلِكَ فَهُوَ فَضْلٌ آيَةٌ مُحْكَمَةٌ، أَوْ سُنَّةٌ قَائِمَةٌ، أَوْ فَرِيضَةٌ عَادِلَةٌ.
عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اصل) علم تین ہیں اور ان کے علاوہ علوم کی حیثیت فضل (زائد) کی ہے : آیت محکمہ ٢ ؎، یا سنت قائمہ ٣ ؎، یا فریضہ عادلہ ٤ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/المقدمة ٨ (٥٤) ، (تحفة الأشراف : ٨٨٧٦) (ضعیف) (اس کے راوی دونوں عبد الرحمن ضعیف ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : فرائض فریضہ کی جمع ہے یعنی اللہ کے مقرر کردہ حصے۔ ٢ ؎ : یعنی غیر منسوخ قرآن کا علم۔ ٣ ؎ : یعنی صحیح احادیث کا علم۔ ٤ ؎: فرائض کا علم، جس سے ترکے کی تقسیم انصاف کے ساتھ ہو سکے۔