حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ الْحَسَنِ، أَنَّ عُمَرَ قَالَ: أَيُّكُمْ يَعْلَمُ مَا وَرَّثَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) الْجَدَّ، فَقَالَ مَعْقِلُ بْنُ يَسَارٍ: أَنَا وَرَّثَهُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) السُّدُسَ قَالَ: مَعَ مَنْ ؟ قَالَ: لَا أَدْرِي، قَالَ: لَا دَرَيْتَ فَمَا تُغْنِي إِذًا ؟.
حسن بصری کہتے ہیں کہ عمر (رض) نے پوچھا : رسول اللہ ﷺ نے دادا کو ترکے میں سے جو دلایا ہے اسے تم میں کون جانتا ہے ؟ معقل بن یسار (رض) نے کہا : میں (جانتا ہوں) رسول اللہ ﷺ نے اس کو چھٹا حصہ دلایا ہے، انہوں نے پوچھا : کس وارث کے ساتھ ؟ وہ کہنے لگے : یہ تو معلوم نہیں، اس پر انہوں نے کہا : تمہیں پوری بات معلوم نہیں پھر کیا فائدہ تمہارے جاننے کا ؟۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/ الکبری (٦٣٣٥) ، سنن ابن ماجہ/الفرائض ٣ (٢٧٢٣) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٦٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٢٧) (صحیح) (حسن بصری کا عمر (رض) سے سماع نہیں ہے، لیکن دوسرے طرق اور شواہد کی بناء پر حدیث صحیح ہے، ملاحظہ ہو : صحیح ابی داود ٨ ؍ ٢٥١ )