حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ. ح وحَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا وَكِيعُ بْنُ الْجَرَّاحِ، عَنْ سُفْيَانَجَمِيعًا، عَنْ ابْنِ الْأَصْبَهَانِيِّ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، أَنَّ مَوْلًى لِلنَّبِيِّ (ﷺ) مَاتَ وَتَرَكَ شَيْئًا وَلَمْ يَدَعْ وَلَدًا وَلَا حَمِيمًا، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): أَعْطُوا مِيرَاثَهُ رَجُلًا مِنْ أَهْلِ قَرْيَتِهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَحَدِيثُ سُفْيَانَ أَتَمُّ، وقَالَ مُسَدَّدٌ: قَالَ: فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): هَاهُنَا أَحَدٌ مَنْ أَهْلِ أَرْضِهِ، قَالُوا: نَعَمْ قَالَ: فَأَعْطُوهُ مِيرَاثَهُ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کا ایک غلام مرگیا، کچھ مال چھوڑ گیا اور کوئی وارث نہ چھوڑا، نہ کوئی اولاد، اور نہ کوئی عزیز، تو نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : اس کا ترکہ اس کی بستی کے کسی آدمی کو دے دو ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : سفیان کی روایت سب سے زیادہ کامل ہے، مسدد کی روایت میں ہے : نبی اکرم ﷺ نے پوچھا : یہاں کوئی اس کا ہم وطن ہے ؟ لوگوں نے کہا : ہاں ہے، آپ ﷺ نے فرمایا : اس کا ترکہ اس کو دے دو ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الفرائض ١٣ (٢١٠٥) ، سنن ابن ماجہ/الفرائض ٧ (٢٧٣٣) ، (تحفة الأشراف : ١٦٣٨١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٣٧، ١٧٤، ١٨١) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : وہ ترکہ آپ کا حق تھا مگر آپ نے اس کے ہم وطن پر اسے صدقہ کردیا، امام کو ایسا اختیار ہے اس میں کوئی مصلحت ہی ہوگی۔