حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، أَخْبَرَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْأَعْلَى، عَنْ أَبِي سَهْلٍ، عَنْ مُسَّةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، قَالَتْ: كَانَتْ النُّفَسَاءُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) تَقْعُدُ بَعْدَ نِفَاسِهَا أَرْبَعِينَ يَوْمًا، أَوْ أَرْبَعِينَ لَيْلَةً، وَكُنَّا نَطْلِي عَلَى وُجُوهِنَا الْوَرْسَ تَعْنِي مِنَ الْكَلَفِ.
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں نفاس والی عورتیں زچگی کے بعد چالیس دن یا چالیس رات تک بیٹھی رہتی تھیں ١ ؎، ہم اپنے چہروں پر ورس ٢ ؎ ملا کرتے تھے یعنی جھائیوں کی وجہ سے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الطھارة ١٠٥ (١٣٩) ، سنن ابن ماجہ/الطھارة ١٢٨ (٦٤٨) (تحفة الأشراف : ١٨٢٨٧) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٠٠، ٣٠٣، ٣٠٤، ٣١٠) (حسن صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی نماز اور روزے سے رکی رہتی تھیں۔ ٢ ؎ : ایک خوشبودار گھاس ہے جسے رنگنے کے لئے استعمال کیا جاتا تھا۔