حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ يُونُسَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، وَأَحْسَبُ أَنَّ أَهْلَ زِيَادٍ أَخْبَرُونِي، أَنَّهُ رَفَعَهُ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالَ: الرَّاكِبُ يَسِيرُ خَلْفَ الْجَنَازَةِ، وَالْمَاشِي يَمْشِي خَلْفَهَا، وَأَمَامَهَا، وَعَنْ يَمِينِهَا، وَعَنْ يَسَارِهَا، قَرِيبًا مِنْهَا، وَالسِّقْطُ يُصَلَّى عَلَيْهِ، وَيُدْعَى لِوَالِدَيْهِ بِالْمَغْفِرَةِ وَالرَّحْمَةِ.
مغیرہ بن شعبہ (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : سوار جنازے کے پیچھے چلے، اور پیدل چلنے والا جنازے کے پیچھے، آگے دائیں بائیں کسی بھی جانب جنازے کے قریب ہو کر چل سکتا ہے، اور کچے بچوں ١ ؎ کی نماز جنازہ پڑھی جائے اور ان کے والدین کے لیے رحمت و مغفرت کی دعا کی جائے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الجنائز ٤٢ (١٠٣١) ، سنن النسائی/الجنائز ٥٥ (١٩٤٤) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ١٥ (١٤٨١) ، ٢٦ (١٥٠٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٩٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٢٤٧، ٢٤٨، ٢٤٩، ٢٥٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : ایسے ببچے جو مدت حمل پوری ہونے سے پہلے پیدا ہوجائیں اور زندہ رہ کر مرجائیں۔