حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ: أَنَّ امْرَأَةً سَوْدَاءَ، أَوْ رَجُلًا، كَانَ يَقُمُّ الْمَسْجِدَ، فَفَقَدَهُ النَّبِيُّ (ﷺ)، فَسَأَلَ عَنْهُ، فَقِيلَ: مَاتَ، فَقَالَ: أَلَا آذَنْتُمُونِي بِهِ ؟، قَالَ: دُلُّونِي عَلَى قَبْرِهِ، فَدَلُّوهُ، فَصَلَّى عَلَيْهِ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک کالی عورت یا ایک مرد مسجد میں جھاڑو دیا کرتا تھا، نبی اکرم ﷺ نے اسے موجود نہ پایا تو لوگوں سے اس کے متعلق پوچھا، لوگوں نے بتایا کہ وہ تو مرگیا ہے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگوں نے مجھے اس کی خبر کیوں نہیں دی ؟ آپ نے فرمایا : مجھے اس کی قبر بتاؤ ، لوگوں نے بتائی تو آپ ﷺ نے اس کی نماز جنازہ پڑھی۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٧٤ (٤٥٨) ، صحیح مسلم/الجنائز ٢٣ (٩٥٦) ، سنن ابن ماجہ/الجنائز ٣٢ (١٥٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٤٦٥٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٥٣، ٣٨٨، ٤٠٦) (صحیح )