حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ فَارِسٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، قَالَ ابْنُ يَحْيَى: كَتَبْتُهُ مِنْ كِتَابِهِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ،عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَانَ أَبُو هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، فَقَالَ: إِنِّي أَرَى اللَّيْلَةَ، فَذَكَرَ رُؤْيَا، فَعَبَّرَهَا أَبُو بَكْرٍ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): أَصَبْتَ بَعْضًا، وَأَخْطَأْتَ بَعْضًا، فَقَالَ: أَقْسَمْتُ عَلَيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ لَتُحَدِّثَنِّي مَا الَّذِي أَخْطَأْتُ ؟ فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ (ﷺ): لَا تُقْسِمْ.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ابوہریرہ (رض) بیان کر رہے تھے کہ ایک شخص رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا، اور اس نے عرض کیا کہ میں نے رات خواب دیکھا ہے، پھر اس نے اپنا خواب بیان کیا، ابوبکر (رض) نے اس کی تعبیر بتائی، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : تم نے کچھ تعبیر درست بیان کی ہے اور کچھ میں تم غلطی کر گئے ہو ابوبکر (رض) نے کہا : قسم ہے آپ پر اے اللہ کے رسول ! میرے باپ آپ پر قربان ہوں آپ ہمیں ضرور بتائیں میں نے کیا غلطی کی ہے ؟ تو نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : قسم مت دلاؤ ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/الرؤیا ٩ (٢٢٩٣) ، سنن ابن ماجہ/الرؤیا ١٠ (٣٩١٨) ، (تحفة الأشراف : ٢٢٩٣، ١٣٧٥) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/التعبیر ٤٧ (٧٠٤٦) ، صحیح مسلم/الرؤیا ٣ (٢٢٦٩) ، سنن الدارمی/الرؤیا ١٣ (٢٢٠٢) ویأتی ہذا الحدیث فی السنة (٤٦٣٢) (صحیح )