حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: سَمِعْتُ الْأَعْمَشَ، ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الْأَعْمَشِ، الْمَعْنَى، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: أَنَّ امْرَأَةً جَاءَتْ إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَتْ: إِنَّهُ كَانَ عَلَى أُمِّهَا صَوْمُ شَهْرٍ، أَفَأَقْضِيهِ عَنْهَا ؟ فَقَالَ: لَوْ كَانَ عَلَى أُمِّكِ دَيْنٌ، أَكُنْتِ قَاضِيَتَهُ ؟، قَالَتْ: نَعَمْ، قَالَ: فَدَيْنُ اللَّهِ أَحَقُّ أَنْ يُقْضَى.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ ایک عورت نبی اکرم ﷺ کے پاس آئی اور اس نے عرض کیا کہ میری والدہ کے ذمے ایک مہینے کے روزے تھے کیا میں اس کی جانب سے رکھ دوں ؟ آپ ﷺ نے پوچھا : اگر تمہاری والدہ کے ذمہ قرض ہوتا تو کیا تم اسے ادا کرتی ؟ اس نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ کا قرض تو اور بھی زیادہ ادا کئے جانے کا مستحق ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصوم ٤٢ (١٩٥٣) ، صحیح مسلم/الصیام ٢٧ (١١٤٨) ، سنن الترمذی/الصوم ٢٢ (٧١٦) ، سنن ابن ماجہ/الصوم ٥١ (١٧٥٨) ، (تحفة الأشراف : ٥٦١٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٢٤، ٢٢٧، ٢٥٨، ٢٥٨، ٣٦٢) ، دی/ الصوم ٤٩ (١٨٠٩) (صحیح )