حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ مِسْعَرٍ، عَنْ مُحَارِبِ بْنِ دِثَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: كَانَ لِي عَلَى النَّبِيِّ (ﷺ) دَيْنٌ، فَقَضَانِي وَزَادَنِي.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ میرا کچھ قرض نبی اکرم ﷺ پر تھا، تو آپ نے مجھے ادا کیا اور زیادہ کر کے دیا ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلاة ٥٩ (٤٤٣) ، والوکالة ٨ (٢٣٠٩) ، والاستقراض ٧ (٢٣٩٤) ، والھبة ٣٢ (٣٦٠٣) ، صحیح مسلم/المسافرین ١١ (٧١٥) ، سنن النسائی/البیوع ٥١ (٤٥٩٤) ، (تحفة الأشراف : ٢٥٧٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٢٩٩، ٣٠٢، ٣١٩، ٣٦٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس سے معلوم ہوا کہ اگر قرضدار اپنی خوشی سے بغیر کسی شرط کے زیادہ دے تو اس کے لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔