حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ خَلَّادٍ الْبَاهِلِيُّ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سَلِيمِ بْنِ حَيَّانَ، أَخْبَرَنَا سَعِيدُ بْنُ مِينَاءَ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، يَقُولُ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) أَنْ تُبَاعَ الثَّمَرَةُ حَتَّى تُشْقِحَ، قِيلَ: وَمَا تُشْقِحُ ؟، قَالَ: تَحْمَارُّ، وَتَصْفَارُّ، وَيُؤْكَلُ مِنْهَا.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اشقاح سے پہلے پھل بیچنے سے منع فرمایا ہے، پوچھا گیا : اشقاح کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : اشقاح یہ ہے کہ پھل سرخی مائل یا زردی مائل ہوجائیں اور انہیں کھایا جانے لگے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٨٥ (٢١٩٦) ، ٨٧ (٢١٩٨) ، ٩٣ (٢٢٠٨) ، صحیح مسلم/البیوع ١٣ (١٥٣٦) ، (تحفة الأشراف : ٢٢٥٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٣١٩، ٣٦١) (صحیح )