حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ حَنْظَلَةَ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّهُ سَأَلَ رَافِعَ بْنَ خَدِيجٍ، عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ،فَقَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) عَنْ كِرَاءِ الْأَرْضِ، فَقَالَ: أَبِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ، فَقُلْتُ: أَمَّا بِالذَّهَبِ وَالْوَرِقِ فَلَا بَأْسَ بِهِ.
حنظلہ بن قیس کہتے ہیں کہ انہوں نے رافع بن خدیج (رض) سے زمین کو کرایہ پر دینے کے بارے میں پوچھا تو انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے زمین کرایہ پر (کھیتی کے لیے) دینے سے منع فرمایا ہے، تو میں نے پوچھا : سونے اور چاندی کے بدلے کرایہ کی بات ہو تو ؟ تو انہوں نے کہا : رہی بات سونے اور چاندی سے تو اس میں کوئی قباحت نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٣٥٥٣) (صحیح )