حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ بَقِيَّةَ، أَخْبَرَنَا خَالِدٌ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَحْيَى، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ أَبِي مَعْمَرٍ أَحَدِ بَنِي عَدِيِّ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَا يَحْتَكِرُ إِلَّا خَاطِئٌ، فَقُلْتُ لِسَعِيدٍ: فَإِنَّكَ تَحْتَكِرُ، قَالَ: وَمَعْمَرٌ كَانَ يَحْتَكِرُ، قَالَ أَبُو دَاوُد: وَسَأَلْتُ أَحْمَدَ، مَا الْحُكْرَةُ ؟ قَالَ: مَا فِيهِ عَيْشُ النَّاسِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: قَالَ الْأَوْزَاعِيُّ: الْمُحْتَكِرُ مَنْ يَعْتَرِضُ السُّوقَ.
بنو عدی بن کعب کے ایک فرد معمر بن ابی معمر (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : بھاؤ بڑھانے کے لیے احتکار (ذخیرہ اندوزی) وہی کرتا ہے جو خطاکار ہو ۔ محمد بن عمرو کہتے ہیں : میں نے سعید بن مسیب سے کہا : آپ تو احتکار کرتے ہیں، انہوں نے کہا : معمر بھی احتکار کرتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : میں نے امام احمد سے پوچھا : حکرہ کیا ہے ؟ (یعنی احتکار کا اطلاق کس چیز پر ہوگا) انہوں نے کہا : جس پر لوگوں کی زندگی موقوف ہو۔ ابوداؤد کہتے ہیں : اوزاعی کہتے ہیں : احتکار (ذخیرہ اندوزی) کرنے والا وہ ہے جو بازار کے آڑے آئے یعنی اس کے لیے رکاوٹ بنے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ٢٦ (١٦٠٥) ، سنن الترمذی/البیوع ٤٠ (١٢٦٧) ، سنن ابن ماجہ/التجارات ٦ (٢١٥٤) ، (تحفة الأشراف : ١١٤٨١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/ ٤٥٣، ٦/٤٠٠) ، سنن الدارمی/البیوع ١٢ (٢٥٨٥) (صحیح )