حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الدِّمَشْقِيُّ، أَنَّ سُلَيْمَانَ بْنَ بِلَالٍ حَدَّثَهُمْ، حَدَّثَنِي الْعَلَاءُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَجُلًا جَاءَ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَعِّرْ، فَقَالَ: بَلْ أَدْعُو، ثُمَّ جَاءَهُ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، سَعِّرْ، فَقَالَ: بَلِ اللَّهُ يَخْفِضُ، وَيَرْفَعُ، وَإِنِّي لَأَرْجُو أَنْ أَلْقَى اللَّهَ وَلَيْسَ لِأَحَدٍ عِنْدِي مَظْلَمَةٌ.
ابوہریرہ (رض) کہتے ہیں کہ ایک شخص آیا اور اس نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! نرخ مقرر فرما دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا : (میں نرخ مقرر تو نہیں کروں گا) البتہ دعا کروں گا (کہ غلہ سستا ہوجائے) ، پھر ایک اور شخص آپ کے پاس آیا اور اس نے بھی کہا : اللہ کے رسول ! نرخ متعین فرما دیجئیے، آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ ہی نرخ گراتا اور اٹھاتا ہے اور میں چاہتا ہوں کہ میں اللہ سے اس طرح ملوں کہ کسی کی طرف سے مجھ پر زیادتی کا الزام نہ ہو ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٤٠٢٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٣٧، ٣٧٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : بھاؤ مقرر کردینے میں کسی کا فائدہ اور کسی کا گھاٹا ہوسکتا ہے تو گھاٹے والا میرا دامن گیر ہوسکتا ہے کہ میری وجہ سے اسے نقصان اٹھانا پڑا تھا۔