hadith book logo

Abu Dawood: Hadith 3469

.

سنن أبي داود

3469
Abu Dawood
صحیح
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، ‏‏‏‏‏‏حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ بُكَيْرٍ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، ‏‏‏‏‏‏عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ، ‏‏‏‏‏‏أَنَّهُ قَالَ:‏‏‏‏ أُصِيبَ رَجُلٌ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فِي ثِمَارٍ ابْتَاعَهَا فَكَثُرَ دَيْنُهُ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ):‏‏‏‏ تَصَدَّقُوا عَلَيْهِ، ‏‏‏‏‏‏فَتَصَدَّقَ النَّاسُ عَلَيْهِ فَلَمْ يَبْلُغْ ذَلِكَ وَفَاءَ دَيْنِهِ، ‏‏‏‏‏‏فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ):‏‏‏‏ خُذُوا مَا وَجَدْتُمْ وَلَيْسَ لَكُمْ إِلَّا ذَلِكَ.
ابو سعید خدری (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے زمانہ میں ایک شخص کے پھلوں پر جسے اس نے خرید رکھا تھا کوئی آفت آگئی چناچہ اس پر بہت سارا قرض ہوگیا، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اسے خیرات دو تو لوگوں نے اسے خیرات دی، لیکن خیرات اتنی اکٹھا نہ ہوئی کہ جس سے اس کے تمام قرض کی ادائیگی ہوجاتی تو رسول اللہ ﷺ نے (اس کے قرض خواہوں سے) فرمایا : جو پا گئے وہ لے لو، اس کے علاوہ اب کچھ اور دینا لینا نہیں ہے ١ ؎ (یہ گویا مصیبت میں تمہاری طرف سے اس کے ساتھ رعایت و مدد ہے) ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/المساقاة ٤ (١٥٥٦) ، سنن الترمذی/الزکاة ٢٤ (٦٥٥) ، سنن النسائی/البیوع ٢٨ (٤٥٣٤) ، ٩٣ (٤٦٨٢) ، سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٥، (٢٣٥٦) ، (تحفة الأشراف : ٤٢٧٠) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٥٦، ٥٨) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : جب حاکم موجودہ مال کو قرض خواہوں کے مابین بقدر حصہ تقسیم کر دے پھر بھی اس شخص کے ذمہ قرض خواہوں کا قرض باقی رہ جائے تو ایسی صورت میں قرض خواہ اسے تنگ کرنے ، قید کرنے اور قرض کی ادائیگی پر مزید اصرار کرنے کے بجائے اسے مال کی فراہمی تک مہلت دے، حدیث کا مفہوم یہی ہے اور قرآن کی اس آیت : وإن کان ذو عسرة فنظرة إلى ميسرة کے مطابق بھی ہے کیونکہ کسی کے مفلس ہوجانے سے قرض خواہوں کے حقوق ضائع نہیں ہوتے۔