حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا أَبُو دَاوُدَ هُوَ الطَّيَالِسِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ أَبِي الْمُعْتَمِرِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ خَلْدَةَ، قَال: أَتَيْنَا أَبَا هُرَيْرَةَ، فِي صَاحِبٍ لَنَا أَفْلَسَ، فَقَالَ: لَأَقْضِيَنَّ فِيكُمْ بِقَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) مَنْ أَفْلَسَ أَوْ مَاتَ فَوَجَدَ رَجُلٌ مَتَاعَهُ بِعَيْنِهِ فَهُوَ أَحَقُّ بِهِ.
عمر بن خلدہ کہتے ہیں ہم اپنے ایک ساتھی کے مقدمہ میں جو مفلس ہوگیا تھا ابوہریرہ (رض) کے پاس آئے، انہوں نے کہا : میں تمہارا فیصلہ رسول اللہ ﷺ کے فیصلہ کے مطابق کروں گا، آپ ﷺ نے فرمایا ہے : جو مفلس ہوگیا، یا مرگیا، اور بائع نے اپنا مال اس کے پاس بعینہ موجود پایا تو وہ بہ نسبت اور قرض خواہوں کے اپنا مال واپس لے لینے کا زیادہ حقدار ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأحکام ٢٦ (٢٣٦٠) ، انظر حدیث رقم : (٣٥١٩) ، (تحفة الأشراف : ١٤٢٦٩) (ضعیف) (اس کے راوی ابو المعتمر بن عمرو بن رافع مجہول ہیں )