حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ حَاتِمِ بْنِ حُرَيْثٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيْنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ غَنْمٍ، فَتَذَاكَرْنَا الطِّلَاءَ، فَقَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو مَالِكٍ الْأَشْعَرِيُّ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، يَقُولُ: لَيَشْرَبَنَّ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي الْخَمْرَ يُسَمُّونَهَا بِغَيْرِ اسْمِهَا.
مالک بن ابی مریم کہتے ہیں کہ عبدالرحمٰن بن غنم ہمارے پاس آئے تو ہم نے ان سے طلاء ١ ؎ کا ذکر کیا، انہوں نے کہا : مجھ سے ابو مالک اشعری (رض) نے بیان کیا کہ انہوں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا : میری امت کے کچھ لوگ شراب پئیں گے لیکن اس کا نام شراب کے علاوہ کچھ اور رکھ لیں گے ٢ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الفتن ٢٢ (٤٠٢٠) ، (تحفة الأشراف : ١٢١٦٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٣٤٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : طلاء : انگور سے بنا ہوا ایک قسم کا شیرہ ہے۔ ٢ ؎ : جیسے اس زمانے میں تاڑی اور بھانگ استعمال کرنے والے اسے شراب نہیں سمجھتے حالانکہ ہر نشہ لانے والی چیز شراب ہے اور وہ حرام ہے۔