حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: شَرُّ الطَّعَامِ طَعَامُ الْوَلِيمَةِ يُدْعَى لَهَا الْأَغْنِيَاءُ وَيُتْرَكُ الْمَسَاكِينُ، وَمَنْ لَمْ يَأْتِ الدَّعْوَةَ فَقَدْ عَصَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ.
ابوہریرہ (رض) کہتے تھے سب سے برا کھانا اس ولیمہ کا کھانا ہے جس میں صرف مالدار بلائے جائیں اور غریب و مسکین چھوڑ دیئے جائیں، اور جو (ولیمہ کی) دعوت میں نہیں آیا اس نے اللہ اور اس کے رسول کی نافرمانی کی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ النکاح ٧٣ (٥١٧٧) ، صحیح مسلم/النکاح ١٦ (١٤٣٢) ، سنن ابن ماجہ/النکاح ٢٥ (١٩١٣) ، (٢١١٠) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩٥٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٢٤٠) ، سنن الدارمی/الأطعمة ٢٨(٢١١٠) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معلوم ہوا کہ جو ولیمہ ایسا ہو جس میں صرف مالدار اور باحیثیت لوگ ہی بلائے جائیں، اور محتاج و فقیر نہ آنے پائیں وہ برا ہے، نہ یہ کہ خود ولیمہ برا ہے۔