حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُوسَى الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي وَحْشِيُّ بْنُ حَرْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَصْحَابَ النَّبِيِّ (ﷺ)، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّا نَأْكُلُ وَلَا نَشْبَعُ، قَالَ: فَلَعَلَّكُمْ تَفْتَرِقُونَ ؟، قَالُوا: نَعَمْ، قَالَ: فَاجْتَمِعُوا عَلَى طَعَامِكُمْ، وَاذْكُرُوا اسْمَ اللَّهِ عَلَيْهِ يُبَارَكْ لَكُمْ فِيهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: إِذَا كُنْتَ فِي وَلِيمَةٍ فَوُضِعَ الْعَشَاءُ فَلَا تَأْكُلْ حَتَّى يَأْذَنَ لَكَ صَاحِبُ الدَّارِ.
وحشی بن حرب حبشی حمصی (رض) سے روایت ہے کہ صحابہ کرام نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! ہم کھانا کھاتے ہیں لیکن پیٹ نہیں بھرتا تو آپ ﷺ نے فرمایا : شاید تم لوگ الگ الگ کھاتے ہو ؟ لوگوں نے کہا : ہاں، آپ ﷺ نے فرمایا : تم لوگ مل کر اور بسم اللہ کر کے (اللہ کا نام لے کر) کھاؤ، تمہارے کھانے میں برکت ہوگی ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : جب تم کسی ولیمہ میں ہو اور کھانا رکھ دیا جائے تو گھر کے مالک (میزبان) کی اجازت کے بغیر کھانا نہ کھاؤ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن ابن ماجہ/الأطعمة ١٧ (٣٢٨٦) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٩٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/٥٠١) (حسن) اس کے راوی وحشی بن حرب مستور ہیں