حَدَّثَنَا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ إِسْحَاق بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، يَقُولُ: إِنَّ خَيَّاطًا دَعَا رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) لِطَعَامٍ صَنَعَهُ، قَالَ أَنَسٌ: فَذَهَبْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) إِلَى ذَلِكَ الطَّعَامِ، فَقُرِّبَ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) خُبْزًا مِنْ شَعِيرٍ، وَمَرَقًا فِيهِ دُبَّاءٌ وَقَدِيدٌ، قَالَ أَنَسٌ: فَرَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) يَتَتَبَّعُ الدُّبَّاءَ مِنْ حَوَالَيِ الصَّحْفَةِ، فَلَمْ أَزَلْ أُحِبُّ الدُّبَّاءَ بَعْدَ يَوْمَئِذٍ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ ایک درزی نے رسول اللہ ﷺ کے کھانے کی دعوت کی جسے اس نے تیار کیا، تو میں بھی آپ ﷺ کے ساتھ کھانے گیا، آپ کی خدمت میں جو کی روٹی اور شوربہ جس میں کدو اور گوشت کے ٹکڑے تھے پیش کی گئی، میں نے آپ ﷺ کو رکابی کے کناروں سے کدو ڈھونڈھتے ہوئے دیکھا، اس دن کے بعد سے میں بھی برابر کدو پسند کرنے لگا۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/البیوع ٣٠ (٢٠٩٢) ، الأطعمة ٤ (٥٣٧٩) ، ٢٥ (٥٤٢٠) ، صحیح مسلم/الأشربة ٢١ (٢٠٤١) ، سنن الترمذی/الأطعمة ٤٢ (١٨٥٠) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٢٦ (٣٣٠٤) ، (تحفة الأشراف : ١٩٨) ، وقد أخرجہ : موطا امام مالک/النکاح ٢١ (٥١) ، مسند احمد (٣/١٥٠) ، سنن الدارمی/الأطعمة ١٩ (٢٠٩٤) (صحیح )