حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ خَالِدٍ الْكَلْبِيُّ أَبُو ثَوْرٍ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ، عَنْ عِيسَى بْنِ نُمَيْلَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَسُئِلَ عَنْ أَكْلِ الْقُنْفُذِ ؟، فَتَلَا: قُلْ لا أَجِدُ فِي مَا أُوحِيَ إِلَيَّ مُحَرَّمًا سورة الأنعام آية 145، قَالَ: قَالَ شَيْخٌ عِنْدَهُ: سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: ذُكِرَ عِنْدَ النَّبِيِّ (ﷺ)، فَقَالَ: خَبِيثَةٌ مِنَ الْخَبَائِثِ، فَقَالَ ابْنُ عُمَرَ: إِنْ كَانَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) هَذَا، فَهُوَ كَمَا قَالَ مَا لَمْ نَدْرِ.
نمیلہ کہتے ہیں کہ میں ابن عمر (رض) کے پاس تھا آپ سے سیہی ١ ؎ کے متعلق پوچھا گیا تو آپ نے یہ آیت پڑھی : قل لا أجد فيما أوحي إلى محرما اے نبی ! آپ کہہ دیجئیے میں اسے اپنی طرف نازل کی گئی وحی میں حرام نہیں پاتا ان کے پاس موجود ایک بوڑھے شخص نے کہا : میں نے ابوہریرہ (رض) کو کہتے ہوئے سنا ہے کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس اس کا ذکر کیا گیا تو آپ نے فرمایا : وہ ناپاک جانوروں میں سے ایک ناپاک جانور ہے ۔ تو ابن عمر (رض) نے کہا : اگر رسول اللہ ﷺ نے ایسا فرمایا ہے تو بیشک وہ ایسا ہی ہے جو ہمیں معلوم نہیں۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٥٤٩٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/٣٨١) (ضعیف) (اس کی سند میں ایک راوی شیخ مبہم ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : بڑے چوہے کی مانند ایک جانور جس کے پورے بدن پر کانٹے ہوتے ہیں۔