حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَسَنٍ الْمِصِّيصِيُّ، حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ، عَنْ ابْنِ جُرَيْجٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، أَخْبَرَنِي رَجُلٌ، عَنْجَابِرِ بَنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: نَهَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يَوْمَ خَيْبَرَ، عَنْ أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْحُمُرِ، وَأَمَرَنَا أَنْ نَأْكُلَ لُحُومَ الْخَيْلِ، قَالَ عَمْرٌو: فَأَخْبَرْتُ هَذَا الْخَبَرَ أَبَا الشَّعْثَاءِ، فَقَالَ: قَدْ كَانَ الْحَكَمُ الْغِفَارِيُّ فِينَا يَقُولُ هَذَا، وَأَبَى ذَلِكَ الْبَحْرُ يُرِيدُ ابْنَ عَبَّاسٍ.
جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے دن گھریلو گدھے کے گوشت کھانے سے منع فرمایا، اور ہمیں گھوڑے کا گوشت کھانے کا حکم دیا۔ عمرو کہتے ہیں : ابوالشعثاء کو میں نے اس حدیث سے باخبر کیا تو انہوں نے کہا : حکم غفاری بھی ہم سے یہی کہتے تھے اور اس بحر (عالم) نے اس حدیث کا انکار کیا ہے ان کی مراد ابن عباس (رض) سے تھی ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/ الصید ٢٨ (٥٥٢٩) ، انظر حدیث رقم : ٣٧٨٨، (تحفة الأشراف : ٣٤٢٢) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٤/٤١٣) (صحیح) (اس سند میں رجل سے مراد محمد بن علی باقر ہیں ) وضاحت : ١ ؎ : ابن عباس (رض) گھریلو گدھا کے کھانے کو جائز مانتے تھے، ہوسکتا ہے کہ انہیں حرمت والی حدیث نہ پہنچی ہو، آیت کریمہ : قل لا أجد فيما أوحي إلي محرما سے ان کا اس پر استدلال اس لئے صحیح نہیں ہے کہ یہ آیت مکی ہے، اور حرمت مدینہ میں ہوئی تھی۔