حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنْ ابْنِ شِهَابٍ، حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ أَبِي رَبَاحٍ، أَنَّ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: مَنْ أَكَلَ ثُومًا أَوْ بَصَلًا، فَلْيَعْتَزِلْنَا أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا، وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ، وَإِنَّهُ أُتِيَ بِبَدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِنَ الْبُقُولِ، فَوَجَدَ لَهَا رِيحًا، فَسَأَلَ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ، فَقَالَ: قَرِّبُوهَا إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِهِ كَانَ مَعَهُ، فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا، قَالَ: كُلْ فَإِنِّي أُنَاجِي مَنْ لَا تُنَاجِي، قَالَ أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ بِبَدْرٍ: فَسَّرَهُ ابْنُ وَهْبٍ طَبَقٌ.
عطا بن ابی رباح کا بیان ہے کہ جابر بن عبداللہ (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو لہسن یا پیاز کھائے وہ ہم سے الگ رہے یا آپ نے فرمایا : ہماری مسجد سے الگ رہے، اور اپنے گھر میں بیٹھا رہے اور آپ ﷺ کی خدمت میں ایک طبق لایا گیا جس میں کچھ سبزیاں تھیں، آپ نے اس میں بو محسوس کی تو پوچھا : کس چیز کی سبزی ہے ؟ تو اس میں جس چیز کی سبزی تھی آپ کو بتایا گیا، تو اسے آپ ﷺ نے اپنے بعض ساتھیوں کے پاس لے جانے کو کہا جو آپ کے ساتھ تھے تو جب دیکھا کہ یہ لوگ بھی اسے کھانا ناپسند کر رہے ہیں تو آپ ﷺ نے فرمایا : تم کھاؤ کیونکہ میں ایسی ذات سے سرگوشی کرتا ہوں جس سے تم نہیں کرتے ۔ احمد بن صالح کہتے ہیں : ابن وہب نے بدر کی تفسیر طبق سے کی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الأذان ١٦٠ (٨٥٤) ، الأطعمة ٤٩ (ز ٥٤٥) ، الاعتصام ٢٤ (٧٣٥٩) ، صحیح مسلم/المساجد ١٧ (٥٦٤) ، (تحفة الأشراف : ٢٤٨٥) ، وقد أخرجہ : سنن الترمذی/الأطعمة ١٣ (١٨٠٦) ، سنن النسائی/المساجد ١٦ (٧٠٨) ، سنن ابن ماجہ/الأطعمة ٥٩ (٣٣٦٣) ، مسند احمد (٣/ ٣٧٤، ٣٨٧، ٤٠٠) (صحیح )