حَدَّثَنَا مَخْلَدُ بْنُ خَالِدٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ)جَاءَ إِلَى سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَجَاءَ بِخُبْزٍ وَزَيْتٍ فَأَكَلَ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): أَفْطَرَ عِنْدَكُمُ الصَّائِمُونَ وَأَكَلَ طَعَامَكُمُ الْأَبْرَارُ وَصَلَّتْ عَلَيْكُمُ الْمَلَائِكَةُ.
انس (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ سعد بن عبادہ (رض) کے پاس آئے تو وہ آپ کی خدمت میں روٹی اور تیل لے کر آئے، آپ ﷺ نے اسے کھایا پھر آپ نے یہ دعا پڑھی : أفطر عندکم الصائمون وأكل طعامکم الأبرار وصلت عليكم الملائكة تمہارے پاس روزے دار افطار کیا کریں، نیک لوگ تمہارا کھانا کھائیں، اور تمہارے لیے دعائیں کریں ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ٤٧٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١٨، ١٣٨، ٢٠١) ، سنن الدارمی/الصوم ٥١ (١٨١٣) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : یہ حدیث ابن ماجہ (١٧٤٧) میں ہے، لیکن اس میں البانی صاحب قرعۃ میں (صحیح دون الفطر عند سعد )