حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يزِيدَ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، حَدَّثَنَا شُرَحْبِيلُ بْنُ يَزِيدَ الْمُعَافِرِيُّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ رَافِعٍ التَّنُوخِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، يَقُولُ: مَا أُبَالِي مَا أَتَيْتُ إِنْ أَنَا شَرِبْتُ تِرْيَاقًا أَوْ تَعَلَّقْتُ تَمِيمَةً أَوْ قُلْتُ الشِّعْرَ مِنْ قِبَلِ نَفْسِي، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا كَانَ لِلنَّبِيِّ (ﷺ) خَاصَّةً وَقَدْ رَخَّصَ فِيهِ قَوْمٌ يَعْنِي التِّرْيَاقَ.
عبدالرحمٰن بن رافع تنوخی کہتے ہیں : میں نے عبداللہ بن عمرو (رض) کو کہتے سنا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے آپ فرما رہے تھے : مجھے پرواہ نہیں جو بھی میرا حال ہو اگر میں تریاق پیوں یا تعویذ گنڈا لٹکاؤں یا اپنی طرف سے شعر کہوں ۔ ابوداؤد کہتے ہیں : یہ نبی اکرم ﷺ کے ساتھ مخصوص تھا، کچھ لوگوں نے تریاق پینے کی رخصت دی ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف : ٨٨٧٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٢/١٦٧، ٢٢٣) (ضعیف) (اس کے راوی عبد الرحمن تنوخی ضعیف ہیں )