حَدَّثَنَا نَصْرُ بْنُ عَلِيٍّ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ يَعْنِي ابْنَ زُرَيْعٍ. ح وحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بِشْرٍ وَهَذَا لَفْظُهُ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ النَّضْرِ بْنِ أَنَسٍ، عَنْ بَشِيرِ بْنِ نَهِيكٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ)، قَالَ: مَنْ أَعْتَقَ شِقْصًا لَهُ أَوْ شَقِيصًا لَهُ فِي مَمْلُوكٍ، فَخَلَاصُهُ عَلَيْهِ فِي مَالِهِ إِنْ كَانَ لَهُ مَالٌ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ لَهُ مَالٌ قُوِّمَ الْعَبْدُ قِيمَةَ عَدْلٍ ثُمَّ اسْتُسْعِيَ لِصَاحِبِهِ فِي قِيمَتِهِ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ، قَالَ أَبُو دَاوُد: فِي حَدِيثِهِمَا جَمِيعًا، فَاسْتُسْعِيَ غَيْرَ مَشْقُوقٍ عَلَيْهِ وَهَذَا لَفْظُ عَلِيٍّ.
ابوہریرہ (رض) سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جس نے کسی مشترک غلام میں سے اپنا حصہ آزاد کردیا تو اگر وہ مالدار ہے تو اس پر اس کی مکمل خلاصی لازم ہوگی اور اگر وہ مالدار نہیں ہے تو غلام کی واجبی قیمت لگائی جائے گی پھر اس قیمت میں دوسرے شریک کے حصہ کے بقدر اس سے اس طرح محنت کرائی جائے گی کہ وہ مشقت میں نہ پڑے (یہ علی کے الفاظ ہیں) ۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٣٩٣٤) ، (تحفة الأشراف : ١٢٢١١) (صحیح )