حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ، عَنْ إِسْمَاعِيل بْنِ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِلَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، قَالَ: كُنْتُ وَافِدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، فَقَالَ: يَعْنِي النَّبِيَّ (ﷺ): لَا تَحْسِبَنَّ وَلَمْ يَقُلْ لَا تَحْسَبَنَّ.
لقیط بن صبرہ (رض) کہتے ہیں میں بنی منتفق کی طرف سے رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا، یا بنی منتفق کے وفد میں رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا تھا پھر انہوں نے حدیث بیان کی کہ آپ نے یعنی نبی اکرم ﷺ نے لا تحسبن (سین کے زیر کے ساتھ) پڑھا اور لا تحسبن (سین کو زبر کے ساتھ) نہیں پڑھا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (١٤٢) ، (تحفة الأشراف : ١١١٧٢) (صحیح )