حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق، عَنْ الْأَسْوَدِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ: أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ) كَانَ يَقْرَؤُهَا: فَهَلْ مِنْ مُدَّكِرٍ سورة القمر آية 15 يَعْنِي: مُثَقَّلًا، قَالَ أَبُو دَاوُد: مَضْمُومَةَ الْمِيمِ مَفْتُوحَةَ الدَّالِ مَكْسُورَةُ الْكَافِ.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ فهل من مدکر تو کیا ہے کوئی نصیحت حاصل کرنے والا (سورۃ الذاریات : ٥٨) (یعنی دال کو مشدد) پڑھتے تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں : مُدَّكِّرٍ میم کے ضمہ دال کے فتحہ اور کاف کے کسرہ کے ساتھ ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/أحادیث الأنبیاء ٣ (٣٣٤١) ، و تفسیر القرآن ٢ (٤٨٧٤) ، صحیح مسلم/المسافرین ٥٠ (٨٢٣) ، سنن الترمذی/القراء ات سورة القمر ٥ ( ٢٩٣٧) ، (تحفة الأشراف : ٩١٧٩) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٩٥، ٤٠٦، ٤١٣، ٤٣١، ٤٣٧، ٤٦١) (صحیح )