حَدَّثَنَا حَفْصُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ خَالِدٍ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَعَمَّنْ أَقْرَأَهُ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): فَيَوْمَئِذٍ لا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ 25 وَلا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ 26 سورة الفجر آية 25-26، قَالَ أَبُو دَاوُد: بَعْضُهُمْ أَدْخَلَ بَيْنَ خَالِدٍ وأَبِي قِلَابَةَ رَجُلًا.
ابوقلابہ ایک ایسے شخص سے جس کو رسول اللہ ﷺ نے پڑھایا ہے روایت کرتے ہیں (کہ یہ آیت کریمہ اس طرح ہے) فيومئذ لا يعذب عذابه أحد * ولا يوثق وثاقه أحد ١ ؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں : کچھ لوگوں نے خالد اور ابوقلابہ کے درمیان ایک مزید واسطہ داخل کیا ہے۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبودواد، (تحفة الأشراف : ١٥٦٠٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/٧١) (ضعیف الإسناد ) وضاحت : ١ ؎ : یعنی صیغہ مجہول کے ساتھ جب کہ مشہور قرات دونوں میں صیغہ معروف کے ساتھ ہے۔