حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، وَعُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ مَيْسَرَةَ الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: كُنْتُ رَدِيفَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) وَهُوَ عَلَى حِمَارٍ وَالشَّمْسُ عِنْدَ غُرُوبِهَا، فَقَالَ: هَلْ تَدْرِي أَيْنَ تَغْرُبُ هَذِهِ ؟ قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: فَإِنَّهَا تَغْرُبُ فِي عَيْنٍ حَامِيَةٍ.
ابوذر (رض) کہتے ہیں کہ میں رسول اللہ ﷺ کا ردیف تھا آپ ایک گدھے پر سوار تھے اور غروب شمس کا وقت تھا، آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تمہیں معلوم ہے کہ یہ کہاں ڈوبتا ہے ؟ میں نے عرض کیا : اللہ اور اس کے رسول زیادہ جانتے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : فإنها تغرب في عين حامية یہ ایک گرم چشمہ میں ڈوبتا ہے (سورۃ الکہف : ٨٦) ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/بدء الخلق ٤ (٣١٩٩) ، و تفسیر القرآن ٣٦ (٤٨٠٣) ، والتوحید ٢٢ (٧٤٢٤) ، صحیح مسلم/الإیمان ٧٢ (١٥٩) ، سنن الترمذی/الفتن ٢٢ (٢١٨٦) ، تفسیر القرآن سورة یٰسن ٣٧ (٣٢٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٩٩٣) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٤٥، ١٥٢، ١٥٨ ع ١٦٥، ١٧٧) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مشہور قرات حَمِئَةٍ ہے یعنی کالی مٹی کے چشمہ میں ڈوبتا ہے۔