حَدَّثَنَا أَبُو مَعْمَرٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ أَبِي الْحَجَّاجِ الْمِنْقَرِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، حَدَّثَنَا شَيْبَانُ، عَنْ الْأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ ابْنِ مَسْعُودٍأَنَّهُ قَرَأَ: هَيْتَ لَكَ سورة يوسف آية 23، فَقَالَ شَقِيقٌ: إِنَّا نَقْرَؤُهَا: 0 هِئْتُ لَكَ 0 يَعْنِي، فَقَالَ ابْنُ مَسْعُودٍ: أَقْرَؤُهَا كَمَا عُلِّمْتُ أَحَبُّ إِلَيَّ.
عبداللہ بن مسعود (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے هَيْتَ لَكَ ١ ؎ پڑھا تو ابو وائل شقیق بن سلمہ نے عرض کیا : ہم تو اسے هِئْتُ لَكَ پڑھتے ہیں تو ابن مسعود (رض) نے کہا : جیسے مجھے سکھایا گیا ہے اسی طرح پڑھنا مجھے زیادہ محبوب ہے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/تفسیر القرآن ٤ (٤٦٩٢) ، (تحفة الأشراف : ٩٢٦٥) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : معنی ہے آجاؤ (سورۃ یوسف : ٣) اور هئتُ کے معنیٰ ہے میں تیار ہوں۔