حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ: أَنَّ مَلِكَ الرُّومِ أَهْدَى إِلَى النَّبِيِّ (ﷺ) مُسْتُقَةً مِنْ سُنْدُسٍ، فَلَبِسَهَا فَكَأَنِّي أَنْظُرُ إِلَى يَدَيْهِ تَذَبْذَبَانِ ثُمَّ بَعَثَ بِهَا إِلَى جَعْفَرٍ، فَلَبِسَهَا ثُمَّ جَاءَهُ، فَقَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): إِنِّي لَمْ أُعْطِكَهَا لِتَلْبَسَهَا، قَالَ: فَمَا أَصْنَعُ بِهَا ؟ قَالَ: أَرْسِلْ بِهَا إِلَى أَخِيكَ النَّجَاشِيِّ.
انس بن مالک (رض) کہتے ہیں کہ روم کے بادشاہ نے نبی اکرم ﷺ کو سندس (ایک باریک ریشمی کپڑا) کا ایک چوغہ ہدیہ میں بھیجا تو آپ ﷺ نے اسے زیب تن فرمایا۔ گویا میں آپ ﷺ کے ہاتھوں کو اس وقت دیکھ رہا ہوں آپ اسے مل رہے ہیں، پھر آپ نے اسے جعفر (رض) کو بھیج دیا تو اسے پہن کر وہ آپ ﷺ کے پاس آئے تو آپ نے فرمایا : میں نے تمہیں اس لیے نہیں دیا ہے کہ اسے تم پہنو انہوں نے کہا : پھر میں اسے کیا کروں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اسے اپنے بھائی نجاشی کو بھیج دو ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٠٩٨) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١١، ٢٢٩، ٢٥١) (ضعیف الإسناد )