حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّقَفِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ رَبِيعَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ الْعَسْقَلَانِيُّ، عَنْ أَبِي جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ رُكَانَةَ، عَنْ أَبِيهِ: أَنَّ رُكَانَةَ صَارَعَ النَّبِيَّ (ﷺ)، فَصَرَعَهُ النَّبِيُّ (ﷺ)، قَالَرُكَانَةُ: وَسَمِعْتُ النَّبِيَّ (ﷺ)، يَقُولُ: فَرْقُ مَا بَيْنَنَا وَبَيْنَ الْمُشْرِكِينَ الْعَمَائِمُ عَلَى الْقَلَانِسِ.
محمد بن علی بن رکانہ روایت کرتے ہیں کہ رکانہ (رض) نے نبی اکرم ﷺ سے کشتی لڑی تو آپ نے رکانہ کو پچھاڑ دیا۔ رکانہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ کو فرماتے سنا : ہمارے اور مشرکین کے درمیان فرق ٹوپیوں پر پگڑی باندھنے کا ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن الترمذی/اللباس ٤٢ (١٧٨٤) ، (تحفة الأشراف : ٣٦١٤) (ضعیف) (سند میں ابوجعفر مجہول راوی ہیں ، اور محمد علی اور ان کے دادا یعنی رکانہ کے درمیان انقطاع ہے )