حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ أَبِي حَكِيمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ الزِّبْرِقَانَيُحَدِّثُ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) يُصَلِّي الظُّهْرَ بِالْهَاجِرَةِ، وَلَمْ يَكُنْ يُصَلِّي صَلَاةً أَشَدَّ عَلَى أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) مِنْهَا، فَنَزَلَتْ: حَافِظُوا عَلَى الصَّلَوَاتِ وَالصَّلاةِ الْوُسْطَى سورة البقرة آية 238، وَقَالَ: إِنَّ قَبْلَهَا صَلَاتَيْنِ وَبَعْدَهَا صَلَاتَيْنِ.
زید بن ثابت (رض) کہتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ ظہر دوپہر کو پڑھا کرتے تھے، اور کوئی نماز رسول اللہ ﷺ کے اصحاب پر اس سے زیادہ سخت نہ ہوتی تھی، تو یہ آیت نازل ہوئی : حافظوا على الصلوات والصلاة الوسطى ١ ؎ زید نے کہا : بیشک اس سے پہلے دو نماز ہیں (ایک عشاء کی، دوسری فجر کی) اور اس کے بعد دو نماز ہیں (ایک عصر کی دوسری مغرب کی) ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد به أبو داود، (تحفة الأشراف : ٣٧٣١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٥/١٨٣) ، موطا امام مالک/صلاة الجماعة ٧ (٢٧ موقوفا) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : نماز وسطی سے مراد کون سی نماز ہے اس سلسلے میں مختلف حدیثیں وارد ہیں، زیادہ صحیح قول یہ ہے کہ اس سے عصر مراد ہے ، اکثر علماء کا رجحان اسی جانب ہے، واللہ اعلم بالصواب۔