حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو يَعْنِي ابْنَ الْحَارِثِ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ فَرْقَدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَالِكِ بْنِ حُذَافَةَ حَدَّثَهُ،عَنْ أُمِّهِ الْعَالِيَةِ بِنْتِ سُبَيْعٍ، أَنَّهَا قَالَتْ: كَانَ لِي غَنَمٌ بِأُحُدٍ فَوَقَعَ فِيهَا الْمَوْتُ، فَدَخَلْتُ عَلَى مَيْمُونَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ (ﷺ) فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لَهَا، فَقَالَتْ لِي مَيْمُونَةُ: لَوَ أَخَذْتِ جُلُودَهَا فَانْتَفَعْتِ بِهَا، فَقَالَتْ: أَوَ يَحِلُّ ذَلِكَ ؟ قَالَتْ: نَعَمْ، مَرَّ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ يَجُرُّونَ شَاةً لَهُمْ مِثْلَ الْحِمَارِ، فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): لَوْ أَخَذْتُمْ إِهَابَهَا، قَالُوا: إِنَّهَا مَيْتَةٌ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): يُطَهِّرُهَا الْمَاءُ وَالْقَرَظُ.
عالیہ بنت سبیع کہتی ہیں کہ میری کچھ بکریاں احد پہاڑ پر تھیں وہ مرنے لگیں تو میں ام المؤمنین میمونہ (رض) کے پاس آئی اور ان سے اس کا ذکر کیا تو آپ نے مجھ سے کہا : اگر تم ان کی کھالوں سے فائدہ اٹھاتیں ! تو میں بولی : کیا یہ درست ہے ؟ انہوں نے کہا : ہاں، رسول اللہ ﷺ کے پاس سے قریش کے کچھ لوگ ایک مری ہوئی بکری کو گدھے کی طرح گھسیٹتے ہوئے گزرے، تو ان سے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اگر تم نے اس کی کھال لے لی ہوتی لوگوں نے عرض کیا : وہ تو مری ہوئی ہے، اس پر رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : پانی اور بیر کی پتی اس کو پاک کر دے گی ۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الفرع والعتیرة ٣ (٤٢٥١، ٤٢٥٢) ، (تحفة الأشراف : ١٨٠٨٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٣٣٤) (صحیح )