حَدَّثَنَا عُقْبَةُ بْنُ مُكْرَمٍ، وَابْنُ الْمُثَنَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، قَالَ: سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ أَبِي يَعْقُوبَيُحَدِّثُ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، أَنّ النَّبِيَّ (ﷺ): أَمْهَلَ آلَ جَعْفَرٍ ثَلَاثًا أَنْ يَأْتِيَهُمْ ثُمَّ أَتَاهُمْ، فَقَالَ: لَا تَبْكُوا عَلَى أَخِي بَعْدَ الْيَوْمِ، ثُمَّ قَالَ: ادْعُوا لِي بَنِي أَخِي فَجِيءَ بِنَا كَأَنَّا أَفْرُخٌ، فَقَالَ: ادْعُوا لِي الْحَلَّاقَ، فَأَمَرَهُ فَحَلَقَ رُءُوسَنَا.
عبداللہ بن جعفر (رض) سے روایت ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے جعفر کے گھر والوں کو تین دن کی مہلت دی پھر آپ ان کے پاس تشریف لائے اور فرمایا : آج کے بعد میرے بھائی پر تم نہ رونا ١ ؎ پھر فرمایا : میرے پاس میرے بھتیجوں کو بلاؤ تو ہمیں آپ کی خدمت میں لایا گیا، ایسا لگ رہا تھا گویا ہم چوزے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا : حجام کو بلاؤ اور آپ نے اسے حکم دیا تو اس نے ہمارے سر مونڈے۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/الزینة من المجتبی ٣ (٥٢٢٩) ، (تحفة الأشراف : ٥٢١٦) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٢٠٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : اس حدیث سے پتہ چلا کہ چیخ و پکار اور سینہ کو بی کے بغیر میت پر تین دن تک رونا اور اظہار غم کرنا جائز ہے۔