حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عُثْمَانَ، حَدَّثَنَا مَرْوَانُ بْنُ مُعَاوِيَةَ، عَنْ إِسْمَاعِيل يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ سَمُرَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ)، يَقُولُ: لَا يَزَالُ هَذَا الدِّينُ قَائِمًا حَتَّى يَكُونَ عَلَيْكُمُ اثْنَا عَشَرَ خَلِيفَةً كُلُّهُمْ تَجْتَمِعُ عَلَيْهِ الْأُمَّةُ، فَسَمِعْتُ كَلَامًا مِنَ النَّبِيِّ (ﷺ) لَمْ أَفْهَمْهُ، قُلْتُ لِأَبِي مَا يَقُولُ ؟ قَالَ: كُلُّهُمْ مِنْ قُرَيْشٍ.
جابر بن سمرہ (رض) کہتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا : یہ دین برابر قائم رہے گا یہاں تک کہ تم پر بارہ خلیفہ ہوں گے، ان میں سے ہر ایک پر امت اتفاق کرے گی پھر میں نے نبی اکرم ﷺ سے ایک ایسی بات سنی جسے میں سمجھ نہیں سکا میں نے اپنے والد سے پوچھا : آپ نے کیا فرمایا ؟ تو انہوں نے بتایا کہ آپ ﷺ نے فرمایا ہے : یہ سارے خلفاء قریش میں سے ہوں گے ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٢١٣٤) ، وقد أخرجہ : صحیح البخاری/الأحکام ٥١ (٧٢٢٢) ، صحیح مسلم/الإمارة ١ (١٨٢١) ، سنن الترمذی/الفتن ٤٦ (٢٢٢٤) ، مسند احمد (٥/٨٦، ٨٨، ٩٦، ١٠٥) (صحیح) (اس میں : تجتمع علیہ الأمة کا ٹکڑا منکر ہے، صحیح نہیں ہے) ، (ابو خالد الاحمسی لین الحدیث ہیں، اور اس کی روایت میں متفرد ہیں، ملاحظہ ہو : الصحیحة : ٣٧٦، وتراجع الألباني : ٢٠٨ )