حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا جَرِيرٌ، عَنْ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ رُفَيْعٍ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ابْنِ الْقِبْطِيَّةِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، عَنِ النَّبِيِّ (ﷺ) بِقِصَّةِ جَيْشِ الْخَسْفِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) فَكَيْفَ بِمَنْ كَانَ كَارِهًا ؟ قَالَ: يُخْسَفُ بِهِمْ وَلَكِنْ يُبْعَثُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى نِيَّتِهِ.
ام المؤمنین ام سلمہ (رض) نبی اکرم ﷺ سے دھنسائے جانے والے لشکر کا واقعہ روایت کرتی ہیں اس میں ہے : میں نے عرض کیا : اللہ کے رسول ! اس شخص کا کیا حال ہوگا جو نہ چاہتے ہوئے زبردستی لایا گیا ہو ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : وہ بھی ان کے ساتھ دھنسا دیا جائے گا البتہ قیامت کے دن وہ اپنی نیت پر اٹھایا جائے گا ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح مسلم/ الفتن ٢ (٢٨٨٢) ،(تحفة الأشراف : ١٨١٩٤) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٢٩٠) (صحیح )