حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، أَخْبَرَنَا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مِهْرَانَ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: مُرَّ عَلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمَعْنَى عُثْمَانَ قَالَ: أَوَ مَا تَذْكُرُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ (ﷺ) قَالَ: رُفِعَ الْقَلَمُ عَنْ ثَلَاثَةٍ عَنِ الْمَجْنُونِ الْمَغْلُوبِ عَلَى عَقْلِهِ حَتَّى يَفِيقَ، وَعَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَعَنِ الصَّبِيِّ حَتَّى يَحْتَلِمَ، قَالَ: صَدَقْتَ قَالَ فَخَلَّى عَنْهَا.
عبداللہ بن عباس (رض) کہتے ہیں کہ اسے علی بن ابی طالب (رض) کے پاس سے گزارا گیا، آگے اسی طرح جیسے عثمان بن ابی شیبہ کی روایت کا مفہوم ہے، اس میں ہے : کیا آپ کو یاد نہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے : قلم تین آدمیوں سے اٹھا لیا گیا ہے : مجنون سے جس کی عقل جاتی رہے یہاں تک کہ صحت یاب ہوجائے، سوئے ہوئے شخص سے یہاں تک کہ وہ بیدار ہوجائے، بچے سے یہاں تک کہ وہ بالغ ہوجائے تو عمر (رض) بولے : تم نے سچ کہا، پھر انہوں نے اسے چھوڑ دیا۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٤٣٩٩) ، (تحفة الأشراف : ١٠١٩٦) (صحیح )