حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ جَامِعِ بْنِ شَدَّادٍ، سَمِعْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي عَلْقَمَةَ، سَمِعْتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ مَسْعُودٍ، قَالَ: أَقْبَلْنَا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ (ﷺ) زَمَنَ الْحُدَيْبِيَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَنْ يَكْلَؤُنَا، فَقَالَ بِلَالٌ: أَنَا، فَنَامُوا حَتَّى طَلَعَتِ الشَّمْسُ، فَاسْتَيْقَظَ النَّبِيُّ (ﷺ)، فَقَالَ: افْعَلُوا كَمَا كُنْتُمْ تَفْعَلُونَ، قَالَ: فَفَعَلْنَا، قَالَ: فَكَذَلِكَ فَافْعَلُوا لِمَنْ نَامَ أَوْ نَسِيَ.
عبداللہ بن مسعود (رض) کہتے ہیں ہم صلح حدیبیہ کے زمانے میں رسول اللہ ﷺ کے ساتھ آئے، آپ نے فرمایا : رات میں ہماری نگرانی کون کرے گا ؟ ، بلال (رض) نے کہا : میں، پھر لوگ سوئے رہے یہاں تک کہ جب سورج نکل آیا، تو نبی اکرم ﷺ نیند سے بیدار ہوئے، آپ ﷺ نے فرمایا : تم ویسے ہی کرو جیسے کیا کرتے تھے ۔ ابن مسعود (رض) کہتے ہیں : چناچہ ہم لوگوں نے ویسے ہی کیا، پھر آپ ﷺ نے فرمایا : جو کوئی سو جائے یا (نماز پڑھنی) بھول جائے تو وہ اسی طرح کرے ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : سنن النسائی/المواقیت ٥٤ (٦٢٥) ، (تحفة الأشراف : ٩٣٧١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (١/٣٨٦، ٣٩١، ٤٦٤) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : مطلب یہ ہے کہ جس طرح وقت پر ادا کی جانے والی نماز میں کیا جاتا ہے اسی طرح اس کی قضا نماز میں کرے ، پس فجر کی قضا نماز میں بھی قرات جہری ہوگی۔