حَدَّثَنَا ابْنُ السَّرْحِ، قَالَ: وَجَدْتُ فِي كِتَابِ خَالِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الْأَزْهَرِ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: أُتِيَ النَّبِيُّ (ﷺ) بِشَارِبٍ وَهُوَ بِحُنَيْنٍ، فَحَثَى فِي وَجْهِهِ التُّرَابَ ثُمَّ أَمَرَ أَصْحَابَهُ فَضَرَبُوهُ بِنِعَالِهِمْ وَمَا كَانَ فِي أَيْدِيهِمْ، حَتَّى قَالَ لَهُمْ: ارْفَعُوا فَرَفَعُوا، فَتُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، ثُمَّ جَلَدَ أَبُو بَكْرٍ فِي الْخَمْرِ أَرْبَعِينَ، ثُمَّ جَلَدَ عُمَرُ أَرْبَعِينَ صَدْرًا مِنْ إِمَارَتِهِ، ثُمَّ جَلَدَ ثَمَانِينَ فِي آخِرِ خِلَافَتِهِ، ثُمَّ جَلَدَ عُثْمَانُ الْحَدَّيْنِ كِلَيْهِمَا ثَمَانِينَ وَأَرْبَعِينَ، ثُمَّ أَثْبَتَ مُعَاوِيَةُ الْحَدَّ ثَمَانِينَ.
عبدالرحمٰن بن ازہر (رض) کہتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ کے پاس ایک شرابی لایا گیا، اور آپ حنین میں تھے، آپ نے اس کے منہ پر خاک ڈال دی، پھر اپنے اصحاب کو حکم دیا تو انہوں نے اسے اپنے جوتوں سے، اور جو چیزیں ان کے ہاتھوں میں تھیں ان سے مارا، یہاں تک کہ آپ فرمانے لگے : بس کرو، بس کرو تب لوگوں نے اسے چھوڑا، پھر رسول اللہ ﷺ وفات پا گئے تو آپ کے بعد ابوبکر (رض) بھی شراب کی حد میں چالیس کوڑے مارتے رہے، پھر عمر (رض) نے بھی اپنی خلافت کے شروع میں چالیس کوڑے ہی مارے، پھر خلافت کے اخیر میں انہوں نے اسی کوڑے مارے، پھر عثمان (رض) نے کبھی اسی کوڑے اور کبھی چالیس کوڑے مارے، پھر معاویہ (رض) نے اسی کوڑوں کی تعیین کردی۔ تخریج دارالدعوہ : انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف : ٩٦٨٥) (صحیح )