حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، أَخْبَرَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنّ جَارِيَةً وُجِدَتْ قَدْ رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا ؟ أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ.
انس (رض) سے روایت ہے کہ ایک لونڈی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا : کس نے تیرے ساتھ یہ کیا ہے ؟ کیا فلاں نے ؟ کیا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا : ہاں، اس پر اس یہودی کو پکڑا گیا، تو اس نے اعتراف کیا، چناچہ رسول اللہ ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر بھی پتھر سے کچل دیا جائے۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الوصایا ٥ (٢٧٤٦) ، والطلاق ٢٤ (تعلیقاً ) ، الدیات ٤ (٦٨٧٦) ، ٥ (٦٨٧٧) ، ١٢ (٦٨٨٤) ، صحیح مسلم/القسامة ٣ (١٦٧٢) ، سنن الترمذی/الدیات ٦ (١٣٩٤) ، سنن النسائی/المحاربة ٧ (٤٠٤٩) ، القسامة ٨ (٤٧٤٦) ، سنن ابن ماجہ/الدیات ٢٤ (٢٦٦٥) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩١) ، وقد أخرجہ : مسند احمد ( ٣/١٦٣، ١٨٣، ٢٠٣، ٢٦٧) ، سنن الدارمی/الدیات ٤ (٢٤٠٠) (صحیح )