حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنَا هَمَّامٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَنَسٍ: أَنّ جَارِيَةً وُجِدَتْ قَدْ رُضَّ رَأْسُهَا بَيْنَ حَجَرَيْنِ، فَقِيلَ لَهَا: مَنْ فَعَلَ بِكِ هَذَا ؟ أَفُلَانٌ أَفُلَانٌ حَتَّى سُمِّيَ الْيَهُودِيُّ فَأَوْمَتْ بِرَأْسِهَا، فَأُخِذَ الْيَهُودِيُّ فَاعْتَرَفَ، فَأَمَرَ النَّبِيُّ (ﷺ) أَنْ يُرَضَّ رَأْسُهُ بِالْحِجَارَةِ.
انس (رض) کہتے ہیں کہ ایک لڑکی ملی جس کا سر دو پتھروں کے درمیان کچل دیا گیا تھا، اس سے پوچھا گیا : تمہارے ساتھ یہ کس نے کیا ؟ کیا فلاں نے ؟ کیا فلاں نے ؟ یہاں تک کہ ایک یہودی کا نام لیا گیا، تو اس نے اپنے سر کے اشارہ سے کہا : ہاں، چناچہ اس یہودی کو پکڑا گیا، اس نے اقبال جرم کرلیا تو نبی اکرم ﷺ نے حکم دیا کہ اس کا سر پتھر سے کچل دیا جائے۔ تخریج دارالدعوہ : انظر حدیث رقم : (٤٥٢٧) ، (تحفة الأشراف : ١٣٩١) (صحیح )