حَدَّثَنَا سَهْلُ بْنُ تَمَّامِ بْنِ بَزِيعٍ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ سُلَيْمٍ الْبَاهِلِيُّ، عَنْ أَبِي الْوَلِيدِ، سَأَلْتُ ابْنَ عُمَرَ عَنِ الْحَصَى الَّذِي فِي الْمَسْجِدِ، فَقَالَ: مُطِرْنَا ذَاتَ لَيْلَةٍ فَأَصْبَحَتِ الْأَرْضُ مُبْتَلَّةً فَجَعَلَ الرَّجُلُ يَأْتِي بِالْحَصَى فِي ثَوْبِهِ فَيَبْسُطُهُ تَحْتَهُ، فَلَمَّا قَضَى رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) الصَّلَاةَ قَالَ: مَا أَحْسَنَ هَذَا.
ابوالولید سے روایت ہے کہ میں نے ابن عمر (رض) سے مسجد کی کنکریوں کے متعلق پوچھا تو انہوں نے کہا : ایک رات بارش ہوئی، زمین گیلی ہوگئی تو لوگ اپنے کپڑوں میں کنکریاں لا لا کر اپنے نیچے بچھانے لگے، جب رسول اللہ ﷺ نماز پڑھ چکے تو فرمایا : کتنا اچھا کام ہے یہ ۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف : ٨٥٩٤) (ضعیف) (اس کے راوی ابوالولید مجہول ہیں )