حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ، عَنْ سُمَيَّةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَاأَنَّهُ اعْتَلَّ بَعِيرٌ لِصَفِيَّةَ بِنْتِ حُيَيٍّ وَعِنْدَ زَيْنَبَ فَضْلُ ظَهْرٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ) لِزَيْنَبَ: أَعْطِيهَا بَعِيرًا، فَقَالَتْ: أَنَا أُعْطِي تِلْكَ الْيَهُودِيَّةَ، فَغَضِبَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ)، فَهَجَرَهَا ذَا الْحِجَّةِ وَالْمُحَرَّمَ وَبَعْضَ صَفَرٍ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) سے روایت ہے کہ ام المؤمنین صفیہ بنت حیی (رض) کا ایک اونٹ بیمار ہوگیا اور ام المؤمنین زینب (رض) کے پاس ایک فاضل سواری تھی تو رسول اللہ ﷺ نے زینب سے فرمایا : تم اسے ایک اونٹ دے دو وہ بولیں : میں اس یہودن کو دے دوں ؟ اس پر رسول اللہ ﷺ ناراض ہوگئے اور ذی الحجہ، محرم اور صفر کے چند دنوں تک ان سے بات چیت ترک رکھی۔ تخریج دارالدعوہ : تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف : ١٧٨٤٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/١٣٢، ٢٦١، ٣٣٨) (ضعیف) (اس کی راویہ سمیہ لین الحدیث ہیں )