حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ جَعْفَرٍ الْمَخْرَمِيُّ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعْدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ (ﷺ): مَنْ أَحْدَثَ فِي أَمْرِنَا هَذَا مَا لَيْسَ فِيهِ فَهُوَ رَدٌّ، قَالَ ابْنُ عِيسَى: قَالَ النَّبِيُّ (ﷺ): مَنْ صَنَعَ أَمْرًا عَلَى غَيْرِ أَمْرِنَا فَهُوَ رَدٌّ.
ام المؤمنین عائشہ (رض) کہتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو ہمارے اس دین میں کوئی ایسی نئی بات پیدا کرے جو اس میں نہیں ہے تو وہ مردود ہے ۔ ابن عیسیٰ کی روایت میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے فرمایا : جو کوئی ایسا کام کرے جو ہمارے طریقے کے خلاف ہو تو وہ مردود ہے ۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/الصلح ٥ (٢٦٩٧) ، صحیح مسلم/الأقضیة ٨ (١٧١٨) ، سنن ابن ماجہ/المقدمة ٢ (١٤) ، (تحفة الأشراف : ١٧٤٥٥) ، وقد أخرجہ : مسند احمد (٦/٧٣، ١٤٦، ١٨٠، ٢٤٠، ٢٥٦، ٢٧٠) (صحیح )