حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ. ح وحَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا يَحْيَى الْمَعْنَى، قَالَا: حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، عَنْقَتَادَةَ، أَنَّ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ حَدَّثَهُمْ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ (ﷺ) صَعِدَ أُحُدًا فَتَبِعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، وَعُثْمَانُ فَرَجَفَ بِهِمْ، فَضَرَبَهُ نَبِيُّ اللَّهِ (ﷺ) بِرِجْلِهِ، وَقَالَ: اثْبُتْ أُحُدُ نَبِيٌّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ.
انس بن مالک (رض) بیان کرتے ہیں نبی اکرم ﷺ احد پہاڑ پر چڑھے پھر آپ کے پیچھے ابوبکر، عمر، عثمان (رض) عنہم بھی چڑھے، تو وہ ان کے ساتھ ہلنے لگا، نبی اکرم ﷺ نے اسے اپنے پاؤں سے مارا اور فرمایا : ٹھہر جا اے احد ! (تیرے اوپر) ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید ہیں ١ ؎۔ تخریج دارالدعوہ : صحیح البخاری/المناقب ٥ (٣٦٧٥) ، ٦ (٣٦٨٦) ، ٧ (٣٦٩٧) ، سنن الترمذی/المناقب ١٩ (٣٦٩٧) ، (تحفة الأشراف : ١١٧٢) وقد أخرجہ : مسند احمد (٣/١١٢) (صحیح ) وضاحت : ١ ؎ : تیرے اوپر ایک نبی یعنی خود نبی اکرم ﷺ ، ایک صدیق یعنی ابوبکر، اور دو شہید یعنی عمر اور عثمان (رض) عنہم ہیں، یہ تیرے لئے باعث فخر ہے۔